AskMusa.org
  • |

اللہ کون ہے؟


اللہ ایک ایسی ہستی جس کے توسط سے ہی تمام چیزیں وجود میں ہیں ۔ اس کے بغیر کچھ بھی وجود میں آتا اور نہ ہو سکتا بھا

یہودیوں نے اس ہستی کی مطلق وحدت کے بار میں دنیا کو تعلیم دی ۔ وحدت کا مطلب یہودیت میں فقط یہ یہی ہے کہ مدمقابل کوئ دوسری طاقت یا خدا نہیی ہے ، اس کا مطلب ہے کہ اس کی وحدت بے مثال اور مطلق ہے جو تمام چیزوں اور مظاہر قدرت کا احاطہ کرتی ہے۔ کچھ نہیں ، کچھ بھی اس کی ذات کے باہر موجود نہیں۔ تمام چیزیں، مقامات، توانائی، ڈیٹا، قدرت کے قوانین،اور زمان و مکاں جن میں یہ سب کچھ مصروف عمل ہے اسی کی ذات کے مظاہر ہیں۔

چونکہ اس کی ذات سے باہر کچھ بھی نہیں ہے ، اس لیۓ وہ خالق ہے، نہ صرف اس کائنات ابتداء سے تخلیق کرنے کے معنی میں ( معدومیت کی مدد سے ) بلکہ اس دنیا کے جاری تسلسل میں بھی۔ ہس کا یکم مستقل طور سے تمام چیزیں پیدا کرتا رہتا ہے ۔

اللہ کی ذات ایسی منفرد ہے کہ اس کو پوری طرح اور صحیح طرح سمجھنے کے لیۓ ، ایک شخص کو خود بھی خدا ہونا چاہیے ۔ جو کچھ ہم اس کے متعلق جانتے ہیں، وہ کم پایہ انسانی شعور کی وجہ سے محدود ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہودیت قدرت پر عمیق بحث کی نسبت ، مذاہب جو اس پر انحصار کرتا ہیں، اس پر کہیں زیادہ توجہ دیتے ہیں کہ خدا بندے سے کیا چاہتا ہے ؟

ہم اس کے متعلق کیا کہ سکتے ہیں؟

کچھ یہودی مفکر جیسے میمونائڈز (1204۔1135) دلیل دیتے ہیں کہ ہم اللہ کے متعلق کوئ بھی حتمی راۓ قائم نہیں کر سکتے ۔ ہم اس کے متعلق جو بھی کہیں گے وہ اسے محدود اور کم مایہ کر دے گی۔ اگر ہم یہ کہیں کہ اللہ عقلمند ہے اور تمام چیزوں سے زیادہ عقلمند ہے، ہم اسے پھر بھی محدود کر رہے ہیں، کیونکہ ہمارے خیالات اور عقل کی اڑان محدود ہے، جب کہ وہ عقلی پیمانوں سے کہیں زیادہ صاحب خرد ہے ۔ میمونائڈز دلیل دیتا

1- اس کی تعظیم کی وجہ سے بہت سارے یہودی اللہ کے تمام نام، یا وہ الفاظ جو اللہ کے حوالے سے استعمال کیۓ جاتے ہیں، ہجے نہیں کرتے۔ وہ درمیان میں" " لگانے کے بجاۓ " - " لگا دیتے ہیں ہے کہ ہمیں صرف منفیت کی بات کر نی چاہیے ۔ ہم بلا غلطی کے اس پر بات کر سکتے ہیں کہ جو وہ نہیں ہے۔ (میمونائڈز کا دوسرے یہودی مفکرین پر بہت گہرا اثر ہے،حالانکہ اسے ان تحریک المو حاد سے سرگرمی سے وابسطہ مسلمانوں سے بہت ہولناک عذاب اٹھانا پڑا ۔ اس نے زور دے کر کہا کہ اسلام میں خدا کا تصور ہی حقیقی وحدانیت ہے، ایک ایسا کریڈٹ جو وہ کسی اور مذہب کو دینے کو تیار نہ تھا)

ایک عظیم مفکر نے انتہائی مفید اور لازمی تصورات کا خلاصہ پیش کیا ہے، جو آسمانی کتابوں، اور تلمود کی تعلیمات دونوں سے اخز کیۓ گۓ ہیں جنہیں ہمیں خدا سے نا طہ جوڑنے کے لیۓ بالضرور سمجھنا چاہیے :

۔ اس کے وجود کی حقیقت
۔ اس کی کاملیت
۔ اس کے وجود کی ضرورت
۔ اس کی مکمل خود مختاری
۔ اس کی سادگی

اس کی وحدانیت

یہ افکار اس سلسلہ میں انتہائی اہم ہیں جن سے یہودی حدا سے ناطہ جوڑتے ہیں۔ چونکہ خدا کامل ہے، اس لیۓ اس میں کوئ بھی شیۓ شامل نہیں کی جاسکتی،نہ کوئ شیۓ اسے مزید بہتر اور مکمل بنا سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا ہمیں جس بات کا حکم دیتا ہے وہ صرف ہماری خاطر ہو سکتی ہے،-نہ کہ اسلیۓ کہ اسے اس کی ضرورت ہے! جب ہم اس کی اطاعت کرتے ہیں تو اس کا فائدہ ہمیں ہے ،نہ کے اسے ۔

ایک کامل ہستی کی کوئ حدود نہیں ہو سکتیں ۔ مادی اشیاء اپنی حدود اور پیمائش کی وجہ سے کلی طور محدود ہیں۔ اور ا سی وجہ سے یہودیت اللہ کے لیۓ کسی بھی مادی وجود کے تصور کی نفی کرتی ہے ۔

ایک کامل ہستی کچھ لے نہیں سکتی، کیونکہ کوئ بھی ایسی چیز موجود نہیں ہے جو اس کے پاس نہ ہو ۔ وہ صرف دے سکتا ہے۔ اصل میں بہت سی خصوصیات جو اللہ سے بذریعہ طریقت منسوب ہیں، سب سے زیادہ اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ عطا کر نے والا ہے، مہربان اور شفیق ہے ۔ خدا نافر مانوں کو سزا دینے کے لیۓ، اپنے انصاف اور طاقت کا اظہار بھی کرتا ہے ، اور یہ اس کی عطا اور شفقت کے مقابلے میں ثانوی ہے ۔ اللہ کی سختی اصل میں اس کی محبت کی محبت کی حد ہے ۔ اگر وہ ہم سے کچھ تعرض نہ کرے ، ساری خطائیں بخش دے تو ہم اس سے زیادہ کچھ کریں ہے ۔

اگر ہم اس چیلنج کو کنارے بھی کر دیں کہ اللہ کی تعریف کس لیۓ ہم کیا الفاظ استعال کریں،پھر بھی یہ حجت باقی رہ جاتی ہے کہ فنا ہو جانے والوں سے ہمیں اس کا کیا ادراک ممکن ہے۔ اس سے منسلک دو راستے ہیں:

اللہ کو اس کی فعالیت سے پہچاننا

ہم نے اللہ کو براہ راست نہیں بلکہ اس کے کاموں سے پہچانتے ہیں ۔ ہم اسے براہ راست جان ہی نہیں سکتے ۔ لیکن اسے ان نشانیوں سے پہچانتے ہیں جو وہ چھوڑتا ہے ۔ چاہے وہ خوبصورت اور گھمبیر فطرت کی شکل میں ہوں ، یہ پھر وہ جس طرح تاریج ترتیب دیبا ہے ( جب موسی نے اللہ کو دیکھنے کی فرمائش کی تو انہیں بتایا کہ یہ ناممکن ہے، اور زیادہ سےزیادہ وہ جو کچھ دیکھ سکتے ہیں وہ اس کی 'پشت' ہے ، یعنی وہ سراغ جو وہ اپنے پیچھے اپنی موجودگی اور کاموں کے لیۓ چھوڑتا ہے) ہمیں معلوم ہے کہ اس کی ذات کے اندر کوئ مختلف 'شخصیات' یا کیفیات نہیں ہیں ، لیکن ایک محدود انسانی جبلت سے ہم نے جانا کہ وہ جو کچھ کرتا ہے ہم اس کی اس طرح تشریح کر سکتے ہیں جیسے وہ انسان ہو۔ مثال کے طور پر ، جیسے ہم کبھی اسے شارع سمجھتے ہیں ۔ کسی دوسرے وقت وہ ہم سے ایسے پیش آتا ہیےجیسے اپنے مشفق باپ بچہ سے پیش آتا ہے ۔ بغض موقعوں پر وہ ایک طاقتو ر سپاہی کی طرح پیش آتا ہے ۔ انسانوں میں بعض اوقات یہ مختلف رویے ایک دوسرے کے مقابل لگتے ہیں ۔ ہماری اپنی شخصیت کے اندر اظہار کے لیۓ یہ مختلف رجحانات اکثر ایک دورسے سے مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں ، اللہ کی فطرت کے لیۓ یہ صحیح نہیں ہے ۔ تمام ظاہری اختلافات جوانسانوں کے مشاہدہ میں ہیں ،در حقیقت ایک وحدت سے ہی ابھرتے ہیں۔

تاہم ، اللہ کے مختلف رویے ہمیں، اسے سمجھنے کہ لیۓ اہم آلہ کار ہیں۔ ہم اللہ کے لیۓ جو مقدس نام استعمال کرتے ہیں، کوتاہ نظر اور محدود شعور والوں کے لیۓ ہر نام اس کی ذات کے ایک مختلف پہلو کو نمایاں کرتا ہے ۔ یہودی تعلیمات ان سات اہم ناموں کو جو بائیبل میں استعال کۓ گۓ ، تسلیم کرتی ہیں، جب کہ صوفیانہ روایات بہت سے اور ناموں کو بھی تسلیم کرتی ہیں۔ یہودیت بتاتی ہے کہ جت بائیبل کسی ایسے نکتہ کو بیان کرنا چاہتی ہے جو ہم پوری طرح سمجھ نہیں سکتے تو وہ ایک ایسی زبان کا استعمال کرتی ہے جو ہمارے لیۓ مانوس ہو تاکہ کم ازکم ہمیں اس کی حقیقت کی ایک جھلک دکھا سکے۔ ہمارے لیۓ چیلنج یہ کہ ہم یہ سمجھیں کہ یہ زبان تمثیلی ہے اور لغوی نہیں ۔ چنانچہ جب بائیبل اس کے 'ہاتھ' ، 'انگلی'،اور 'آنکھ' کا تذکرہ کرتی ہے ، تو ہم سمجھ لیتے کہ یہ وہ حوالے ہیں جو وہ اپنی حکمت کو عمل میں تبدیل کرنے کے لیۓ استعمال کرتا ہے۔ یہ طبعی طور پر موجود نہیں ہیں اور نہ ہی وہ انگلی اور ‎ ہاتھ رکھتا ہے۔ جب وہ 'بولتا' ہے تو یہ ہمارے بولنے سے مشابہ نہیں ہوتا ، سوآے اس کے کہ سننے وا لیے کو پیغام مل جاۓ ۔ اسی طرح جب بائیبل تشریح کرتی ہے کہ اللہ 'خوش' ہے یا اللہ 'ناراض' ہے، تو اس کا وہ مطلب نہیں ہے جو ہم روز مرہ میں سمجھتے ہیں ۔ اللہ ہماری طرح جذبات نہیں رکھ سکتا ہے کیونکہ جذبات کسی نئی صورت حال کا رد عمل ہیں ۔ اور کوئ بھی چیز اس کی حقیقت کے اندر کبھی بھی بدل نہیں سکتی )

اللہ کو تجربے سے پہچاننا

اسے 'پہچاننے' کا دوسرا راستہ اس کی قربت سے اس کو پہچاننے کا ہے ، جب ہم اس وقت محسوس کرتے ہیں جب ہم اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے مختلف احکامات بجا لاتے ہیں جو وہ ہم سے چاہتا ہے۔ خاص طور سے صوفیانہ روایات کے مطابق جب ایک شخص اپنے دل و دماغ کی تمام تر قوتوں سے اس پر توجہ مرکوز کرتا ہے، لیکن اس سے پہلے اپنے کردار کو اللہ کی نسبت سے ابھارنے میں حد درجہ کوششیں کر چکا ہوتا ہے ، تو اس کی روح اللہ سے قریب سے قریب ہونے کے قابل ہو جاتی ہے ، اور آخر کار کچھ وقفے کے لیۓ اس سے جڑ جاتی ہے۔ جب روح اللہ سے براہ راست جڑ تی ہے تو اسے الوہیت کا ادراک اس طرح ہوتا جسے ہمیشہ الفاظ میں بیان کرنا نا ممکن ہوتا ہے

تمام چیزوں ک منبع کے طور تر ، اس کی قربت سے بڑھ کر اور کوئ مسرت نہیں ہو سکتی ، اور روایتی طور سے ہر مخلص کا ہمیشہ سے یہی مطمع نظر رہا ہے ۔

AskMusa Now!

© 2007 AskMusa.org | All Rights Reserved

Kintera Empowered Community