یہودی اور غیر یہودی
"ان لوگوں کی تعریف تین خصوصیات سے بیان کی جاسکتی ہیں ۔یہ لوگ رحمدل ہیں،احساس ندامت رکھتے ہیں،اور مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہیں" غیر یہودیوں کے لیۓ،یہودیت کی یہ تعریف سب سے کم کی جانے والی تعریف ہو گی،لیکن یہودی زند گی پر اور باقی دنیا پر اس کے بہت گہرے اثرات مرتب ہوۓ ہیں ۔اس کا منبع تلمود ہے ، یہودی قانون اور فکر کا واحد سر چشمہ ۔ تین خصوصیات میں سے آ خری خصوصیت ہی بریو میں چیسڈ کہلاتی ہے ، اور بہت اہم تصور کی جاتی ہے۔ ایک مکمل خدا فقط بخشتا ہے، لیتا کبھی نہیں۔ دینا یا بخشنا ایک وا حد راستہ تصور کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعے کوئ شخص خدا کی تقلید کر سکتا ہے۔ مہربانی کی صفت اپنی خالص شکل میں یہودی روایات کے مطابق ہمارے جد امجد ابراہیم کی علامتی خصوصیت تصور کی جاتی ہے
یہودی جہاں بھی تھے،انہوں نے امیروں اور غریبوں ک یکساں بانٹا ۔ جن کے پاس وسائل تھے، انہوں نے زیادہ بانٹا اور فیاضی سے بڑے بڑے ادارے قائم کۓ۔ جہاں بھی یہودیوں کو خوش آمد ید کہا گیا، تعلیم حا صل کرنے کی اجازت دی گئی، کچھ یہودیوں نے اچھا کام کیا اور بعد میں اپنی دولت میں کمیونٹی کو چیسڈ کی شکل میں شریک کیا۔ چنانچہ جہاں بھی آپ یہودیوں کا ارتکاز دیکھیں گے وہاں آپ کو اجتماعی یا اداروں کی صورت میں دینے کی خوا ہش نظر آۓ گی ۔ ہسپتال، یونیورسٹیز، فاؤنڈیشنز ، مفلسوں اور بیماروں کے لیۓ خدمات، یہ ادارے اس آبادی میں زیادہ خدمت کر رہے ہیں، جہاں غیر یہودیوں کی کثرت ہے۔
بہت سے یہودیوں نے، اگر سب نے نہیں، گزشتہ دو ہزار سال میں زیادہ وقت اپنے ہم سایہ غیر یہودیوں کے ساتھ دو طرح کے متبادل سلو ک کے ساتھ گزارا ہے۔ کبھی تو ان کو کام آنے والے کمیوں کی طرح برداشت کیا گیا، اور برے وقتوں میں ان کا مستعدی سے قتل عام روا رکھا گیا۔ یہودی بہت آسانی سے دوسروں کے لیۓ گہری نفرت پال سکتے تھے، لیکن اس کے بر عکس انہیں جب بھی موقع دیا گیا، انہوں نے دنیا کو بہتر بنانے کے لیۓ اپنے مطلوبہ حصے سے زیادہ بوجھ اٹھانے میں پھرتی دکھائی
دو عوامل نے یہودیوں کو "دوسروں" کے ساتھ فیاضانہ رویہ اپنانے پر مائل رکھا، جس کی پیشن گوئی آسانی سے نہیں کی جا سکتی: ایک تو اپنے تئیں چیسڈ والے لوگ، اور دوسرا بذات خود یہودی قانون
قانون یہودیوں کو دوسروں سے اچھے تعلقات رکھنے کا بڑی صراحت سے تقاضا کرتا ہے۔ چونکہ یہودیت فقط ایک عقیدہ ہی نہیں بلکہ بنیادی طور پر قانون اور عملداری کا مذہب ہے،اس لیۓ قانون ہمیشہ سے ہی ایک ممتاز طاقت رہا ہے۔ گو کے بہت سے یہودی حود اپنے دل میں رفاہی کاموں اور دوسروں کے لیۓ اتنی عزت نہ رکھتے ہوں، لیکن وہ قانون کی اطاعت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، چاہے وہ اسے پسند کریں یا نہ کریں۔ یہودی قانون توقع کرتا ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ یہودی باہر والوں سے مشفقانہ برتاؤ کریں۔ یہودیوں کو خصوصی طور سے غیر یہودیوں کی چوری کرنے اور انہیں قتل کرنے سے منع کیا ہے (گو کہ یہ بات بہت واضح ہے لیکن ہمیشہ اس کا باہمی متبادل پیش نہیں کیا گیا) دوسرے وحدانی مذاہب اکثر باہر والوں کو کم تر درجے کا انسان سمجھتے ہیں۔ بہر حال کیا ایک شخص مکمل انسان ہو سکتا ہے اگر اللہ اس سے محبت نہ کرے ؟ ان مذاہب نے اپنے ہی لوگوں پر تمام قانونی حقوق تفویض کۓ ۔ لیکن قانون ذرا اور دور تک گیا ۔ تلمود، اور دوسرے تمام قانون اور قواعد جو ا س سے اخذ کۓ گۓ ہیں، یہودیوں کو جھوٹ بولنے، غیر یہودیوں کو دھوکا دینے اور ٹھگنے سے منع کرتے ہیں۔ قانونی طور سے ان کو اپنی خیرات اور رفاہی عطیات میں غیر یہودیوں کو شریک کرنے کی پابندی ہے۔یہ چاہتا ہے کہ یہودی دوسروں کے ساتھ دوستانہ مراسم رکھیں ۔ خیر مقدم کرنے میں پہل کریں، نہ کہ دوسروں کا جوابی خیر مقدم کریں۔ یہ یہودیوں کو بتاتا ہے کہ وہ ملکی قانون کی پاسداری کریں،اور مقامی حکومت کی بہتری کے لیۓ دعا کریں۔یہ یہودیوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ خود کو " خوش اخلاق اور پر امن طریقوں" سے پیش کریں ، اس وقت بھی جب وہ بنیاد پرست اور ملحدوں سے بات چیت کر رہے ہوں یا تہذیب یافتہ غیر یہودیوں سے ، جو خدا پر یقین رکھتے ہیں۔
اس سے پہلے کے یہودی اس مقام پر پہنچیں جہاں انہیں اپنے ہمسایوں کے ساتھ مل کر مشترکہ اچھائیوں کے لیۓ کام کرینےکی اجازت دی جاۓ، انہیں کچھ رکاوٹوں کو پار کرنے کی ضرورت ہے۔ جس میں یہودیوں کے لیۓ سب سے بڑی آزردگی کی بات "منتخب حیثیت" اور" خصوصی "سے چھٹکارا پانا ہے۔
تمام بڑے مغربی مذاہب اپنے آپ کو "خاص" سمجھتے ہیں۔ وہ خاص ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کا دعوی ہے کہ ان کے پاس اللہ کی وحی کی زیادہ معلومات ہیں اور یا ان کے پاس جنت میں جانے کا سب سے بہتر راستہ موجود ہے۔ مذاہب میں اس لحاظ سے بھی بڑا فرق ہے اگر یہ دیکھا جاۓ کہ وہ اپنے سے باہر کے لوگوں سے کس طرح پیش آتے ہیں؟ کچھ لوگ ان کی انسانی خصوصیات اور بنیادی حقوق سے انکار کرتے ہیں۔ کچھ ان کو آخرت میں تو نہیں، لیکن اس دنیا میں تھوڑی بہت جگہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہمیشہ سے تاریخ میں یہودیوں کے" خصوصی" ہونے کا گمان غیر یہودیوں کے لیۓ تکلیف دہ رہا ہے، زیادہ تر وہ لوگ جو خود کو بھی خصوصی خیال کرتے ہیں ، اسے یہودی دشمنی کا دنیا کا پہلا الزام سمجھتے ہیں ۔ اس الزام کو یہودیوں کی مذہبی زندگی کے چند حقائق سے تقویت بھی ملتی ہے ۔ یہودی قانون کھانے کے بارے میں سخت قوانین رکھتا ہے، جس کی وجہ سے یہودیوں کے لیۓ اپنے غیر یہودیوں ہمسایوں کے ساتھ کھانا کھانا ایک طرح سے ناممکن ہے، اور ا س وجہ سے کچھ لوگوں نے غلط فہمی سے یہ تاثر قائم کر لیا ہے کہ دوسروں سے الگ تھلگ رہنا ان کا طرز زندگی ہے۔ یہودیوں کو کچھ ایسی خدمات چا ہہۓ ہوتی ہیں جو کہ عملی طور پر قریب رہنے والے ایک بڑے گروپ کے لیۓ مہیا کی جا سکیں ( بہت قریب، کیونکہ وہ شا بات کے لیۓ سواری نہیں استعال کر سکتے) ان کے ہمسایوں نے غلطی سے اس بات کی اس طرح تعبیر کی کہ اس طرح گی قربت کا مطلب، دوسروں کی شرکت کی ممانعت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہودی خود کو فقط اس وجہ سے خصوصی سمجھتے ہیں کہ ان پر غیر یہودیوں کے مقابلے میں زیادہ ذمہ داریاں ہیں، اور یہ کوئی
ا ستحقاق کی بات نہیں ہے۔ تاہم کوئی غیر یہودی جو برابری کے ساتھ اتنا ہی" خصوصی" ہونا چاہتا ہے وہ یہودیت اختیار کر نے کے لیۓ آزاد ہے اگر چاہے تو!
یہ خاصی طعنہ بازی ہے کہ کافی لوگوں نے یہودیوں کو صرف چنا ہؤا ہونے کی وجہ سے رد کیا ہؤا ہے، جب کہ یہودی خود کو چنا ہؤا یا منتخب نہیں سمجھتے، خاص طور سے دائمی زندگی کے لیۓ۔ کافی لوگ جو یہودیوں پر تنقید کرتے ہیں فقط خود کو خدا کی محبت اور دائمی زندگی کا حقدار سمجھتے ہیں، جب کہ یہودیوں کو تعلیم دی جاتی ہے کہ جو شخص بھی قواعد و ضوابط کی پابندی کرے گا اور شائستہ زندگی گزارے گا، جنت میں اپنی جگہ بنا لے گا ۔ تاہم ، کسی صورت، یہ یہودی ہیں جن کا خصوصی ہونے کے معمولی نسخہ کی بہت تحقیر کی گئی
کیا یہودی قانون یہودیوں کے لیۓ خاص مراعات رکھتا ہے؟ہاں! بالکل اسی طرح جس طرح دوسرے مذاہب اپنے پیروکاروں کے لیۓ خصوصی عنایات تفویض کرتے ہیں۔ تاہم، یہودیت میں ان عنایات کو تفویض کرنے کے لیۓ ایسا طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ دیگر افراد سے ان کے بنیادی حقوق نہ چھینے جائیں،حالانکہ بہت سے دیگر گروپ اتنی عمدگی سے کام سر انجام دینے میں ناکام رہے ہیں ۔ ایک ہم عصر یہودی فقہیہ نے ان اختلافات کا خلاصہ اس طرح پیش کیا ہے " یہودیت کا مطالبہ ہے کہ یہودی ہر انسان کو اہم سمجھے اور اسے اللہ کی مخلوق سمجھے ۔ اس کا مزید مطالبہ ہے کہ ہر یہودی دوسرے یہودیوں سے بھا ئیوں اور بہنوں کی طرح کا سلوک کرے ۔ ہم بعض دفعہ دوسروں سے اس طرح ضرور پیش آتے ہیں جو اخلاقی لحاظ سے قابل قبول ہو، تاہم اپنے بھا ئیوں ہم اس طرح کا سلوک نہیں کرتے۔
کیا تمام یہودی اس مثالی معیار پر پورے نہیں اترتے؟ واقعی نہیں۔ یہودیوں میں بھی زاہد و گنا ہگار ہوتے ہیں، لیکن یہ کہنا بہت زیادہ کینہ پروری ہو گی کہ ان میں دوسروں کے مقابلے میں گنا ہگار زیادہ ہیں ۔ تاریخ نے انہیں کچھ وسیلے دیۓ ہیں جنہیں وہ باہمی طور سے آپس میں استعمال کرتے آۓ ہیں: قانون کی طاقت کے لیۓ بے پناہ تکریم، اور ایک نسل سے دوسری نسل تک عقائد منتقل کرنے کا ایک مؤثر طریقہ کار ۔قانون،غیر متنازع طور سے اور رد کۓ بغیر بالکل اسی طرح جیسا اوپر بیان کیا گیا ۔ جب تک یہودی اپنی کمیونٹی سے دور نہیں جاتے، قانون اور عملی اقدامات سکھاۓ اور پڑھاۓ جاتے ہیں، انفرادی حیثیت میں لوگ اس سے انحراف کرنے کے لیۓ آزاد ہیں کچھ انحراف کرتے بھی ہیں۔ کچھ یہودی جو روایات سے کم ہم آہنگ ہیں، منتخب حیثیت کو کم تر جانتے ہیں، اپنی برتری جتا سکتے ہیں۔ لیکن یہ بہرحال وہ کچھ نہیں ہے جسے یہودیوں کی اکثریت سوچتی ہے، اور نہ ہی انہیں یہ سکھایا جاتا ہے ۔
ربی اورہام آئزک ہا کوہن ، جس کا گزشتہ چند سو سالوں میں بطور فقہیہ بہت زیادہ حوالہ دیا گیا ہے لکھتا ہے کہ یہ تورات کی حکمت عملی ہے کہ لوگوں کو اپنی ذات سے باہر نکلنے کی تربیت دی جاۓ اور بتدریج دوسرے عقیدے سمجھے جائیں ۔ اس کی شروعات اپنی فیملی سے ہوتی ہیں، اس کے بعد کمیونٹی اور اس کے بعد بقیہ تمام لوگ ۔ اس کی انتہا اس وقت ہو گی جب کسی شخص کے اندر سے چیسڈ کے لیۓ خواہش ابھرے کہ وہ انسانیت کے لیۓ کچھ کرے۔ دنیا کو فتح کرنے کا اگر کبھی کوئی یہودی منصوبہ رہا ہے تو وہ یہ کہ خالق اور اس کی تمام مخلوق سے محبت کی زیادہ سے زیادہ معلومات۔
|