زَّكَاةَ1492 ء میں یہودیوں اور مسلمانوں کے ہسپانیہ سے خروج سے پہلے (Don Isaac Abarbanel)ڈون آئزک اباربنیل ، بادشاہ فرڈیننڈ اور اذابیلا کے دور میں اقتصادی معاملات کے وزیر تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنا سب کچھ دوسروں کو دے دیا خیرات تورات کے613 احکامات میں سے ایک اہم حکم ہے ۔ حالانکہ " خیرات" کا لفظ تورات کے احکام کی صحیح ترجمانی نہیں کرتے پر اس لفظ سے یہ ترجیح ملتی ہے کہ خیرات دینا فرض نہیں ہے۔ عبرانی لفظ " زَّكَاة" کا مطلب ہے تقوئ اور پرہیز گاری یعنی جو ہم دوسروں کو دیتے ہیں وہ ان کا حق ہے ۔ یہودی انجیل واجب کرتی ہے کہ دل کھول کر غریبوں کو دیا جاۓ ۔ بہت سے دوسرے احکامات اس حکم کو دوہراتے ہیں ۔ تاکید ہے کہ ایک یہودی جس نے اسرآیئل کی مقدس زمین پر اپنے خون پسینے سے اناج اگایا ہے، اپنی پیداوار کا دسواں حصہ دوسروں کو دے ۔ اپنی پیداوار کو استعمال کرنے سے پہلے اس پر لازم تھا کہ راہبوں، لیوائٹس اور غریبوں کی حاجت پورا کرے (دنیا بھر کے متقی یہودی آج بھی روٹی کھانے سے پہلے جو دعا پڑھتے ہیں اس میں دس الفاظ ہیں جو ان دس حصوں کی یاد دہانی کراتے ہیں) اسرآیئل میں یہودی کسان اپنے کھیت کے ایک کونے کی پیداوار، کٹائی کے دوران زمین پر گر ا ہوا اناج اور فصل کی کٹائی میں بھولا ہوا سازوسامان اکٹھا نہیں کرتا ، اس طرح سے مستحق اور غریب کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاۓ بغیر، با عزت طریقے سے اپنی ضرورت کی چیزیں لے لیتے ہیں ۔ ہر ساتویں برس مشترکہ زمین پر اگاۓ جانے والے اناج میں سب کا حصہ تھا۔ اس طرح سے امیروں اور غریبوں میں فرق ختم ہو گیا ۔ انجیل کے دور میں یہودی ملکیت کو اپنا حق نہیں سمجھتے تھے ۔ ان کا یقین تھا کہ انسان کی کامیابی کا راز خدا کی رحمت ہے جس کے سب مستحق تھے ۔ انسان محض اس رحمت کا رکھوالا تھا ۔ خیرات دینے کا حکم اتنا اہم ہے کہ غریبوں پر بھی لازم ہے کہ وہ دوسرے غریبوں کا خیال رکھیں! یہودی قوانین کے مطابق کوئ مقدس دن اس وقت تک مناسب آداب کے ساتھ منایا نہیں جا سکتا جب تک اس میں غریبوں کی شرکت نہ ہو ۔ سترھویں صدی پولینڈ نے قانون بنایا کہ شادی کے ہر دس مہمان پر ایک غریب کو شریک کیا جاۓ ۔ جدید دور میں یہودی جمعرات کے دن شبات سے پہلے غریبوں میں پھولوں کی ٹوکریاں بانٹتے ہیں ۔ ہفتے کے دن میں ہر عبادت کے بعد عبادت گزاروں کو موقع ملتا ہے کہ خیرات کی صندوقچی میں کچھ نہ کچھ ڈالیں ۔ خیرات کا بڑا حصہ روایتی خاندانوں کی طرف سے آتا ہے جو اپنی آمدنی کا دس سے بیس فیصد دیتے ہیں ۔ انتہائی مشکل حالات جیسا کہ نازی دور کی عالمگیری تباہی ہولوکاسٹ کے دوران بہی خیرات کی سماجی تنظیموں نے غریبوں کی مدد کی ۔ پندرہ سو سال پہیے تلمود یعنی یہودی فقہ کی کتاب کے دور میں خیرات دینے والی تنظیموں پر قوانین متعین کیۓ جا چکے تھے ۔ ہر مقام پر غریبوں کے لیۓ کھانوں کی سہولت فراہم کرنا لازم تھا اور طویل المیعاد کی مدت جیسے کپڑے مہیا کرنا بھی شامل تھا خیرات کے بہت سے لوگ مستحق تھے لیکن حسب قاعدہ سب سے پہلا حق قریبی اور مقامی لوگوں کا تھا اور اس کے بعد دور دراز کے شہروں اور قصبوں کی باری آتی تھی ۔ جب خیرات ضرورت سے کم ہو تو اس کا مستحق متعین کرنے کے لیۓ بھی قواعد و ضوابط تھے ۔ خیرات کے مال واسباب کی وصولی اور تقسیم کاری ایک سماجی عزت کا حوالہ تھا جسے انتہائی دیانت دار اور سمجھ بوجھ کے حامل لوگوں کے سپرد کیا جاتا تھا ۔ قرون وسطئ کے دور میں مصر کے علاقے فوص ٹیٹ میں ایک اہم مورخ موزز میمونائڈز نے خیرات کا ایک نظام مرتب کیا ۔ خیرات اس وقت اعلئ ترین درجہ کا تھا جب دینے والے اور لینے والے کو ایک دوسرے کا علم نہ ہو ۔ اس سے لینے والے کی عزت قائم رہتی اور نہ ہی اس کو احسان واپس لوٹانے کی فکر ہوتی ۔ سب سے بہتر طریقہ یہ تھا کہ غریبوں کم قرضہ دیا جاۓ یا انہیں روزی کمانے کے ذرائع فراہم کیۓ جائیں تاکہ انہیں خیرات کی ضرورت ہی نہیں رہے ۔ یہودی روایات کے مطابق انسانی کاوش کو خدا کی طرف سے صلے کے ساتھ منسلک کرنے کی ممانعت تھی ۔ اس بارے میں یہودیوں کو زیادہ سے زیادہ خیرات دینے کی تاکید کی جاتی ہے ، اس یقین کے ساتھ کہ خیرات دینے سے انسان کچھ کھوتا نہیں ہے بلکہ خدا دینے والے کو اور دیتا ہے اور آخر میں اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ خیرات دینے کے معاملے میں یہودیوں کو تاکید ہے کہ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھیں ۔ اگر خاندان میں صاحب ضرورت ہوں تو ان کا حق پہلے بنتا ہے ۔ اسی طرح واقف کاروں اور اپنے علاقے کے شہریوں کی باری اور دور دراز کے ضرورت مندوں پر ترجیح دیتی ہے ، اس طرح سے یہودیوں کو یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ اپنے گھر ، محلے اور علاقے کے مسائل کو حل کرنے میں سرگرم رہیں ۔ یہ وہ اخلاقی معیار ہے جس کے تحت کسی علاقے کے غریب و مفلس نظر انداز نہیں ہوتے ۔ یہودیوں کو یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ غیر یہودی غریبو ں کا بھی خیال رکھیں ۔ در حقیقت مغربی ممالک میں شاید ہی کوئ ایسی جگہ ہو گی جہاں عام لوگوں کے لیۓ یہودیوں کے بناۓ ہوۓ ہسپتال اور سما جی فلاح و بہبود کے ادارے نہ ہوں |









